میر تقی میر میر تقی میر

ہے یہ بازار جنوں منڈی ہے دیوانوں کی

ہے یہ بازار جنوں منڈی ہے دیوانوں کی یاں دکانیں ہیں کئی چاک گریبانوں کی کیونکے کہیے کہ اثر گریۂ مجنوں کو نہ تھا گرد نمناک ہے اب تک بھی بیابانوں کی یہ بگولہ تو نہیں دشت محبت میں سے جمع ہو خاک اڑی کتنے پریشانوں کی خانقہ کا تو نہ کر قصد ٹک اے خانہ خراب یہی اک رہ گئی ہے بستی مسلمانوں کی سیل اشکوں سے بہے صر صر آہوں سے اڑے مجھ سے کیا کیا نہ خرابی ہوئی ویرانوں کی دل و دیں کیسے کہ اس رہزن دلہا سے اب یہ پڑی ہے کہ خدا خیر کرے جانوں کی کتنے دل سوختہ ہم جمع ہیں اے غیرت شمع کر قدم رنجہ کہ مجلس ہے یہ پروانوں کی سرگذشتیں نہ مری سن کہ اچٹتی ہے نیند خاصیت یہ ہے مری جان ان افسانوں کی میکدے سے تو ابھی آیا ہے مسجد میں میر ہو نہ لغزش کہیں مجلس ہے یہ بیگانوں کی

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR