میر تقی میر میر تقی میر

گیسو سے اس کے میں نے کیوں آنکھ جا لگائی

گیسو سے اس کے میں نے کیوں آنکھ جا لگائی جو اپنے اچھے جی کو ایسی بلا لگائی تھا دل جو پکا پھوڑا بسیاری الم سے دکھتا گیا دو چنداں جوں جوں دوا لگائی ذوق جراحت اس کا کس کو نہیں ہے لیکن بخت اس کے جس کے ان نے تیغ جفا لگائی دم بھی نہ لینے پایا پانی بھی پھر نہ مانگا جس تشنہ لب کو ان نے تلوار آ لگائی تھا صید ناتواں میں لیکن لہو سے میرے پائوں پہ ان نے اپنے بھر کر حنا لگائی بالعکس آج اس کے سارے سلوک دیکھے کیا جانوں دشمنوں نے کل اس سے کیا لگائی جو آنسو پی گیا میں آخر کو میر ان نے چھاتی جلا جگر میں اک آگ جا لگائی

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR