میر تقی میر
لاعلاجی سے جو رہتی ہے مجھے آوارگی
لاعلاجی سے جو رہتی ہے مجھے آوارگی
کیجیے کیا میر صاحب بندگی بے چارگی
کیسی کیسی صحبتیں آنکھوں کے آگے سے گئیں
دیکھتے ہی دیکھتے کیا ہو گیا یکبارگی
روے گل پر روز و شب کس شوق سے رہتا ہے باز
رخنۂ دیوار ہے یا دیدئہ نظارگی
اشک خونیں آنکھ میں بھر لا کے پی جاتا ہوں میں
محتسب رکھتا ہے مجھ پر تہمت مے خوارگی
مت فریب سادگی کھا ان سیہ چشموں کا میر
ان کی آنکھوں سے ٹپکتی ہے بڑی عیارگی