Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

خرابی کچھ نہ پوچھو ملکت دل کی عمارت کی

خرابی کچھ نہ پوچھو ملکت دل کی عمارت کی غموں نے آج کل سنیو وہ آبادی ہی غارت کی نگاہ مست سے جب چشم نے اس کی اشارت کی حلاوت مے کی اور بنیاد میخانے کی غارت کی سحرگہ میں نے پوچھا گل سے حال زار بلبل کا پڑے تھے باغ میں یک مشت پر اودھر اشارت کی جلایا جس تجلی جلوہ گر نے طور کو ہم دم اسی آتش کے پر کالے نے ہم سے بھی شرارت کی نزاکت کیا کہوں خورشید رو کی کل شب مہ میں گیا تھا سائے سائے باغ تک تس پر حرارت کی نظر سے جس کی یوسف سا گیا پھر اس کو کیا سوجھے حقیقت کچھ نہ پوچھو پیرکنعاں کی بصارت کی ترے کوچے کے شوق طوف میں جیسے بگولا تھا بیاباں میں غبار میر کی ہم نے زیارت کی

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR