میر تقی میر میر تقی میر

فکر ہے ماہ کے جو شہر بدر کرنے کی

فکر ہے ماہ کے جو شہر بدر کرنے کی ہے سزا تجھ پہ یہ گستاخ نظر کرنے کی کہہ حدیث آنے کی اس کے جو کیا شادی مرگ نامہ بر کیا چلی تھی ہم کو خبر کرنے کی کیا جلی جاتی ہے خوبی ہی میں اپنی اے شمع کہہ پتنگے کے بھی کچھ شام و سحر کرنے کی اب کے برسات ہی کے ذمے تھا عالم کا وبال میں تو کھائی تھی قسم چشم کے تر کرنے کی پھول کچھ لیتے نہ نکلے تھے دل صد پارہ طرز سیکھی ہے مرے ٹکڑے جگر کرنے کی ان دنوں نکلے ہے آغشتہ بہ خوں راتوں کو دھن ہے نالے کو کسو دل میں اثر کرنے کی عشق میں تیرے گذرتی نہیں بن سر پٹکے صورت اک یہ رہی ہے عمر بسر کرنے کی کاروانی ہے جہاں عمر عزیز اپنی میر رہ ہے درپیش سدا اس کو سفر کرنے کی

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR