میر تقی میر
ہمیں آمد میر کل بھا گئی
ہمیں آمد میر کل بھا گئی
طرح اس میں مجنوں کی سب پا گئی
کہاں کا غبار آہ دل میں یہ تھا
مری خاک بدلی سی سب چھا گئی
کیا پاس بلبل خزاں نے نہ کچھ
گل و برگ بے درد پھیلا گئی
ہوئی سامنے یوں تو ایک ایک کے
ہمیں سے وہ کچھ آنکھ شرما گئی
جگر منھ تک آتے نہیں بولتے
غرض ہم بھی کرتے ہیں کیا کیا گئی
نہ ہم رہ کوئی ناکسی سے گیا
مری لاش تا گور تنہا گئی
گھٹا شمع ساں کیوں نہ جائوں چلا
تب غم جگر کو مرے کھا گئی
کوئی رہنے والی ہے جان عزیز
گئی گر نہ امروز فردا گئی
کیے دست و پا گم جو میر آگیا
وفا پیشہ مجلس اسے پا گئی