میر تقی میر میر تقی میر

کل میر نے کیا کیا کی مے کے لیے بیتابی

کل میر نے کیا کیا کی مے کے لیے بیتابی آخر کو گرو رکھا سجادئہ محرابی جاگا ہے کہیں وہ بھی شب مرتکب مے ہو یہ بات سجھاتی ہے ان آنکھوں کی بے خوابی کیا شہر میں گنجائش مجھ بے سر و پا کو ہو اب بڑھ گئے ہیں میرے اسباب کم اسبابی دن رات مری چھاتی جلتی ہے محبت میں کیا اور نہ تھی جاگہ یہ آگ جو یاں دابی سو ملک پھرا لیکن پائی نہ وفا اک جا جی کھا گئی ہے میرا اس جنس کی نایابی خوں بستہ نہ کیوں پلکیں ہر لحظہ رہیں میری جاتے نہیں آنکھوں سے لب یار کے عنابی جنگل ہی ہرے تنہا رونے سے نہیں میرے کوہوں کی کمر تک بھی جا پہنچی ہے سیرابی تھے ماہ وشاں کل جو ان کوٹھوں پہ جلوے میں ہے خاک سے آج ان کی ہر صحن میں مہتابی کل میر جو یاں آیا طور اس کا بہت بھایا وہ خشک لبی تس پر جامہ گلے میں آبی

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR