میر تقی میر میر تقی میر

کیا موافق ہو دوا عشق کے بیمار کے ساتھ

کیا موافق ہو دوا عشق کے بیمار کے ساتھ جی ہی جاتے نظر آئے ہیں اس آزار کے ساتھ رات مجلس میں تری ہم بھی کھڑے تھے چپکے جیسے تصویر لگا دے کوئی دیوار کے ساتھ مر گئے پر بھی کھلی رہ گئیں آنکھیں اپنی کون اس طرح موا حسرت دیدار کے ساتھ شوق کا کام کھنچا دور کہ اب مہر مثال چشم مشتاق لگی جائے ہے طومار کے ساتھ راہ اس شوخ کی عاشق سے نہیں رک سکتی جان جاتی ہے چلی خوبی رفتار کے ساتھ وے دن اب سالتے ہیں راتوں کو برسوں گذرے جن دنوں دیر رہا کرتے تھے ہم یار کے ساتھ ذکر گل کیا ہے صبا اب کہ خزاں میں ہم نے دل کو ناچار لگایا ہے خس و خار کے ساتھ کس کو ہر دم ہے لہو رونے کا ہجراں میں دماغ دل کو اک ربط سا ہے دیدئہ خونبار کے ساتھ میری اس شوخ سے صحبت ہے بعینہ ویسی جیسے بن جائے کسو سادے کو عیار کے ساتھ دیکھیے کس کو شہادت سے سر افراز کریں لاگ تو سب کو ہے اس شوخ کی تلوار کے ساتھ بے کلی اس کی نہ ظاہر تھی جو تو اے بلبل دم کش میر ہوئی اس لب و گفتار کے ساتھ

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR