میر تقی میر میر تقی میر

جی چاہے مل کسو سے یا سب سے تو جدا رہ

جی چاہے مل کسو سے یا سب سے تو جدا رہ پر ہوسکے تو پیارے ٹک دل کا آشنا رہ کل بے تکلفی میں لطف اس بدن کا دیکھا نکلا نہ کر قبا سے اے گل بس اب ڈھپا رہ عاشق غیور جی دے اور اس طرف نہ دیکھے وہ آنکھ جو چھپاوے تو تو بھی ٹک کھنچا رہ پہنچیں گے آگے دیکھیں کس درجہ کو ابھی تو اس ماہ چاردہ کا سن دس ہے یا کہ بارہ کھینچا کرے ہے ہر دم کیا تیغ بوالہوس پر اس ناسزاے خوں کے اتنا نہ سر چڑھا رہ مستظہر محبت تھا کوہکن وگرنہ یہ بوجھ کس سے اٹھتا ایک اور ایک گیارہ ہر مشت خاک یاں کی چاہے ہے اک تامل بن سوچے راہ مت چل ہر گام پر کھڑا رہ شاید کہ سربلندی ہووے نصیب تیرے جوں گرد راہ سب کے پائوں سے تو لگا رہ اس خط سبز نے کچھ رویت نہ رکھی تیری کیا ایسی زندگانی جا خضر زہر کھا رہ حد سے زیادہ واعظ یہ کودنا اچھلنا کاہے کو جاتے ہیں ہم اے خرس اب بندھا رہ میں تو ہیں وہم دونوں کیا ہے خیال تجھ کو جھاڑ آستین مجھ سے ہاتھ آپ سے اٹھا رہ جیسے خیال مفلس جاتا ہے سو جگہ تو مجھ بے نوا کے بھی گھر ایک آدھ رات آ رہ دوڑے بہت ولیکن مطلب کو کون پہنچا آئندہ تو بھی ہم سا ہوکر شکستہ پا رہ جب ہوش میں تو آیا اودھر ہی جاتے پایا اس سے تو میر چندے اس کوچے ہی میں جا رہ

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR