میر تقی میر میر تقی میر

دل پر خوں ہے یہاں تجھ کو گماں ہے شیشہ

دل پر خوں ہے یہاں تجھ کو گماں ہے شیشہ شیخ کیوں مست ہوا ہے تو کہاں ہے شیشہ شیشہ بازی تو تنک دیکھنے آ آنکھوں کی ہر پلک پر مرے اشکوں سے رواں ہے شیشہ روسفیدی ہے نقاب رخ شور مستی ریش قاضی کے سبب پنبہ دہاں ہے شیشہ منزل مستی کو پہنچے ہے انھیں سے عالم نشۂ مے بلد و سنگ نشاں ہے شیشہ درمیاں حلقۂ مستاں کے شب اس کی جا تھی دور ساغر میں مگر پیر مغاں ہے شیشہ جاکے پوچھا جو میں یہ کارگہ مینا میں دل کی صورت کا بھی اے شیشہ گراں ہے شیشہ کہنے لاگے کہ کدھر پھرتا ہے بہکا اے مست ہر طرح کا جو تو دیکھے ہے کہ یاں ہے شیشہ دل ہی سارے تھے پہ اک وقت میں جو کرکے گداز شکل شیشے کی بنائے ہیں کہاں ہے شیشہ جھک گیا دیکھ کے میں میر اسے مجلس میں چشم بد دور طرحدار جواں ہے شیشہ

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR