میر تقی میر میر تقی میر

ہم ہیں مجروح ماجرا ہے یہ

ہم ہیں مجروح ماجرا ہے یہ وہ نمک چھڑکے ہے مزہ ہے یہ آگ تھے ابتداے عشق میں ہم اب جو ہیں خاک انتہا ہے یہ بود آدم نمود شبنم ہے ایک دو دم میں پھر ہوا ہے یہ شکر اس کی جفا کا ہو نہ سکا دل سے اپنے ہمیں گلہ ہے یہ شور سے اپنے حشر ہے پردہ یوں نہیں جانتا کہ کیا ہے یہ بس ہوا ناز ہو چکا اغماض ہر گھڑی ہم سے کیا ادا ہے یہ نعشیں اٹھتی ہیں آج یاروں کی آن بیٹھو تو خوش نما ہے یہ دیکھ بے دم مجھے لگا کہنے ہے تو مردہ سا پر بلا ہے یہ میں تو چپ ہوں وہ ہونٹ چاٹے ہے کیا کہوں ریجھنے کی جا ہے یہ ہے رے بیگانگی کبھو ان نے نہ کہا یہ کہ آشنا ہے یہ تیغ پر ہاتھ دم بہ دم کب تک اک لگا چک کہ مدعا ہے یہ میر کو کیوں نہ مغتنم جانے اگلے لوگوں میں اک رہا ہے یہ

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR