میر تقی میر
جگر لوہو کو ترسے ہے میں سچ کہتا ہوں دل خستہ
جگر لوہو کو ترسے ہے میں سچ کہتا ہوں دل خستہ
دلیل اس کی نمایاں ہے مری آنکھیں ہیں خوں بستہ
چمن میں دل خراش آواز آتی ہے چلی شاید
پس دیوار گلشن نالہ کش ہے کوئی پر بستہ
جگر سوزاں و دل بریاں برہنہ پا و سرقرباں
تجاوز کیا کروں اس سے کہ ان ہی کا ہوں وابستہ
ترے کوچے میں یکسر عاشقوں کے خارمژگاں ہیں
جو تو گھر سے کبھو نکلے تو رکھیو پائوں آہستہ
مرے آگے نہیں ہنستا تو آ اک صلح کرتا ہوں
بھلا میں روئوں دو دریا تبسم کر تو یک پستہ
تعجب ہے مجھے یہ سرو کو آزاد کہتے ہیں
سراپا دل کی صورت جس کی ہو وہ کیا ہو وارستہ
تری گل گشت کی خاطر بنا ہے باغ داغوں سے
پرطائوس سینہ ہے تمامی دست گلدستہ
بجا ہے گر فلک پر فخر سے پھینکے کلاہ اپنی
کہے جو اس زمیں میں میر یک مصراع برجستہ