میر تقی میر میر تقی میر

کیا ہے گر بدنامی و حالت تباہی بھی نہ ہو

کیا ہے گر بدنامی و حالت تباہی بھی نہ ہو عشق کیسا جس میں اتنی روسیاہی بھی نہ ہو لطف کیا آزردہ ہوکر آپ سے ملنے کے بیچ ٹک تری جانب سے جب تک عذر خواہی بھی نہ ہو چاہتا ہے جی کہ ہم تو ایک جا تنہا ملیں ناز بے جا بھی نہ ہووے کم نگاہی بھی نہ ہو مجمع ترکاں ہے کوئی دیکھیو جاکر کہیں جس کا میں کشتہ ہوں اس میں وہ سپاہی بھی نہ ہو مجھ کو آوارہ جو رکھتا ہے مگر چاہے ہے چرخ ماتم آسائش غفراں پناہی بھی نہ ہو نازبرداری تری کرتے تھے اک امید پر راستی ہم سے نہیں تو کج کلاہی بھی نہ ہو یہ دعا کی تھی تجھے کن نے کہ بہر قتل میر محضر خونیں پہ تیرے اک گواہی بھی نہ ہو

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR