میر تقی میر
محرماں بے دمی کا میری سبب مت پوچھو
محرماں بے دمی کا میری سبب مت پوچھو
ایک دم چھوڑ دو یوں ہی مجھے اب مت پوچھو
گریۂ شمع کا اے ہم نفساں میں تھا حریف
گذری ہے رات کی صحبت بھی عجب مت پوچھو
سر پر شور سے میرے نہ کرو کوئی سوال
حشر تھے داخل خدام ادب مت پوچھو
لب پہ شیون مژہ پر خون و نگہ میں اک یاس
دن گیا ہجر کا جس ڈھنگ سے شب مت پوچھو
میرصاحب نئی یہ طرز ہو اس کی تو کہوں
موجب آزردگی کا وجہ غضب مت پوچھو