میر تقی میر
دیکھتا ہوں دھوپ ہی میں جلنے کے آثار کو
دیکھتا ہوں دھوپ ہی میں جلنے کے آثار کو
لے گئی ہیں دور تڑپیں سایۂ دیوار کو
باب صحت ہے وگرنہ کون کہتا ہے طبیب
جلد اٹھائو میرے دروازے سے اس بیمار کو
حشر پہ موقوف تھا سو تو نظر آیا نہ یاں
کیا بلا درپیش آئی وعدئہ دیدار کو
وے جو مست بے خودی ہیں عیش کرتے ہیں مدام
میکدے میں دہر کے مشکل ہے ٹک ہشیار کو
نقش شیریں یادگار کوہکن ہے اس میں خوب
ورنہ کیا ہے بے ستوں دیکھا ہے میں کہسار کو
کس قدر الجھیں ہیں میرے تار دامن کے کہ اب
پائوں میں گڑ کر نہیں چبھنے کی فرصت خار کو
ہے غبار میر اس کے رہگذر میں یک طرف
کیا ہوا دامن کشاں آتے بھی یاں تک یار کو