میر تقی میر
ہر دم وہ شوخ دست بہ شمشیر کیوں نہ ہو
ہر دم وہ شوخ دست بہ شمشیر کیوں نہ ہو
کچھ ہم نے کی ہے ایسی ہی تقصیر کیوں نہ ہو
اب تو جگر کو ہم نے بلا کا ہدف کیا
انداز اس نگاہ کا پھر تیر کیوں نہ ہو
جاتا تو ہے کہیں کو تو اے کاروان مصر
کنعاں ہی کی طرف کو یہ شب گیر کیوں نہ ہو
حیراں ہیں اس قدر کہ اگر اب کے جایئے
پھر منھ ترا نہ دیکھیے تصویر کیوں نہ ہو
تونے تو رفتہ رفتہ کیا ہم کو ننگ خلق
وحشت دلا کہاں تئیں زنجیر کیوں نہ ہو
جوں گل کسو شگفتہ طبیعت کا ہے نشاں
غنچہ بھی کوئی خاطردل گیر کیوں نہ ہو
ہووے ہزار وحشت اسے تو بھی یار ہے
اغیار تیرے ساتھ جو ہوں میر کیوں نہ ہو