میر تقی میر میر تقی میر

دل صاف ہو تو جلوہ گہ یار کیوں نہ ہو

دل صاف ہو تو جلوہ گہ یار کیوں نہ ہو آئینہ ہو تو قابل دیدار کیوں نہ ہو عالم تمام اس کا گرفتار کیوں نہ ہو وہ ناز پیشہ ایک ہے عیار کیوں نہ ہو مستغنیانہ تو جو کرے پہلے ہی سلوک عاشق کو فکر عاقبت کار کیوں نہ ہو رحمت غضب میں نسبت برق و سحاب ہے جس کو شعور ہو تو گنہگار کیوں نہ ہو دشمن تو اک طرف کہ سبب رشک کا ہے یاں در کا شگاف و رخنۂ دیوار کیوں نہ ہو آیات حق ہیں سارے یہ ذرات کائنات انکار تجھ کو ہووے سو اقرار کیوں نہ ہو ہر دم کی تازہ مرگ جدائی سے تنگ ہوں ہونا جو کچھ ہے آہ سو یک بار کیوں نہ ہو موے سفید ہم کو کہے ہے کہ غافلاں اب صبح ہونے آئی ہے بیدار کیوں نہ ہو نزدیک اپنے ہم نے تو سب کر رکھا ہے سہل پھر میر اس میں مردن دشوار کیوں نہ ہو

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR