میر تقی میر میر تقی میر

وہی جانے جو حیا کشتہ وفا رکھتا ہو

وہی جانے جو حیا کشتہ وفا رکھتا ہو اور رسوائی کا اندیشہ جدا رکھتا ہو کام لے یار سے جو جذب رسا رکھتا ہو یا کوئی آئینہ ساں دست دعا رکھتا ہو عشق کو نفع نہ بیتابی کرے ہے نہ شکیب کریے تدبیر جو یہ درد دوا رکھتا ہو میں نے آئینہ صفت در نہ کیا بند غرض اس کو مشکل ہے جو آنکھوں میں حیا رکھتا ہو ہائے اس زخمی شمشیر محبت کا جگر درد کو اپنے جو ناچار چھپا رکھتا ہو اس سے تشبیہ تو دیتے ہیں یہ ناشاعر لیک سیب کچھ اس ذقن آگے جو مزہ رکھتا ہو آوے ہے پہلے قدم سر ہی کا جانا درپیش دیکھتا ہو جو رہ عشق میں پا رکھتا ہو ایسے تو حال کے کہنے سے بھلی خاموشی کہیے اس سے جو کوئی اپنا کہا رکھتا ہو کیا کرے وصل سے مایوس دل آزردہ جو زخم ہی یار کا چھاتی سے لگا رکھتا ہو کب تلک اس کے اسیران بلا خانہ خراب ظلم کی تازہ جو ہر روز بنا رکھتا ہو ایک دم کھول کے زلفوں کی کمندوں کے تئیں مدتوں تک دل عاشق کو لگا رکھتا ہو گل ہو مہتاب ہو آئینہ ہو خورشید ہو میر اپنا محبوب وہی ہے جو ادا رکھتا ہو

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR