میر تقی میر میر تقی میر

ہم سے تو تم کو ضد سی پڑی ہے خواہ نخواہ رلاتے ہو

ہم سے تو تم کو ضد سی پڑی ہے خواہ نخواہ رلاتے ہو آنکھ اٹھاکر جب دیکھے ہیں اوروں میں ہنستے جاتے ہو جب ملنے کا سوال کروں ہوں زلف و رخ دکھلاتے ہو برسوں مجھ کو یوں ہی گذرے صبح و شام بتاتے ہو بکھری رہیں ہیں منھ پر زلفیں آنکھ نہیں کھل سکتی ہے کیونکے چھپے مے خواری شب جب ایسے رات کے ماتے ہو سرو تہ و بالا ہوتا ہے درہم برہم شاخ گل ناز سے قد کش ہوکے چمن میں ایک بلا تم لاتے ہو صبح سے یاں پھر جان و دل پر روز قیامت رہتی ہے رات کبھو آ رہتے ہو تو یہ دن ہم کو دکھلاتے ہو جن نے تم کو نہ دیکھا ہووے اس سے آنکھیں مارو تم ایک نگاہ مفتن کر تم سو سو فتنے اٹھاتے ہو چشم تو ہے اک دید کی جا پر کب تکلیف کے لائق ہے دل جو ہے دلچسپ مکاں تم اس میں کب کب آتے ہو راحت پہنچی ٹک تم سے تو رنج اٹھایا برسوں تک سر سہلاتے ہو جو کبھو تو بھیجا بھی کھا جاتے ہو ہو کے گداے کوے محبت زور صدا یہ نکالی ہے اب تو میر جی راتوں کو تم ہر در پر چلاتے ہو

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR