میر تقی میر میر تقی میر

خوبی یہی نہیں ہے کہ انداز و ناز ہو

خوبی یہی نہیں ہے کہ انداز و ناز ہو معشوق کا ہے حسن اگر دل نواز ہو سجدے کا کیا مضائقہ محراب تیغ میں پر یہ تو ہو کہ نعش پہ میری نماز ہو اک دم تو ہم میں تیغ کو تو بے دریغ کھینچ تا عشق میں ہوس میں تنک امتیاز ہو نزدیک سوز سینہ سے رکھ اپنے قلب کو وہ دل ہی کیمیا ہے جو گرم گداز ہو ہے فرق ہی میں خیر نہ کر آرزوے وصل مل بیٹھیے جو اس سے تو شکوہ دراز ہو جوں توں کے اس کی چاہ کا پردہ کیا ہے میں اے چشم گریہ ناک نہ افشاے راز ہو جوں چشم بسملی نہ مندی آوے گی نظر جو آنکھ میرے خونی کے چہرے پہ باز ہو ہم سے تو غیرعجز کبھو کچھ بنا نہ میر خوش حال وہ فقیر کہ جو بے نیاز ہو

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR