میر تقی میر میر تقی میر

مباد کینے پہ اس بت کی طبع آئی ہو

مباد کینے پہ اس بت کی طبع آئی ہو پھر ایک بس ہے وہی گو ادھر خدائی ہو مدد نہ اتنی بھی کی بخت ناموافق نے کہ مدعی سے اسے ایک دن لڑائی ہو ہنوز طفل ہے وہ ظلم پیشہ کیا جانے لگاوے تیغ سلیقے سے جو لگائی ہو لبوں سے تیرے تھا آگے ہی لعل سرخ و زرد قسم ہے میں نے اگر بات بھی چلائی ہو خدا کرے کہ نصیب اپنے ہو نہ آزادی کدھر کے ہو جے جو بے بال و پر رہائی ہو مزے کو عشق کی ذلت کے جانتا ہے وہی کسو کی جن نے کبھو لات مکی کھائی ہو اس آفتاب سے تو فیض سب کو پہنچے ہے یقین ہے کہ کچھ اپنی ہی نارسائی ہو کبھو ہے چھیڑ کبھو گالی ہے کبھو چشمک بیان کریے جو ایک اس کی بے ادائی ہو دیار حسن میں غالب کہ خستہ جانوں نے دوا کے واسطے بھی مہر ٹک نہ پائی ہو ہزار مرتبہ بہتر ہے بادشاہی سے اگر نصیب ترے کوچے کی گدائی ہو جو کوئی دم ہو تو لوہو سا پی کے رہ جائوں غموں کی دل میں بھلا کب تلک سمائی ہو مغاں سے راہ تو ہوجائے رفتہ رفتہ شیخ ترا بھی قصد اگر ترک پارسائی ہو کہیں تو ہیں کہ عبث میر نے دیا جی کو خدا ہی جانے کہ کیا جی میں اس کے آئی ہو

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR