میر تقی میر میر تقی میر

تری ابرو و تیغ تیز تو ہم دم ہیں یہ دونوں

تری ابرو و تیغ تیز تو ہم دم ہیں یہ دونوں ہوئے ہیں دل جگر بھی سامنے رستم ہیں یہ دونوں نہ کچھ کاغذ میں ہے تہ نے قلم کو درد نالوں کا لکھوں کیا عشق کے حالات نامحرم ہیں یہ دونوں لہو آنکھوں سے بہتے وقت رکھ لیتا ہوں ہاتھوں کو جراحت ہیں اگر وے دونوں تو مرہم ہیں یہ دونوں کسو چشمے پہ دریا کے دیا اوپر نظر رکھیے ہمارے دیدئہ نم دیدہ کیا کچھ کم ہیں یہ دونوں لب جاں بخش اس کے مار ہی رکھتے ہیں عاشق کو اگرچہ آب حیواں ہیں ولیکن سم ہیں یہ دونوں نہیں ابرو ہی مائل جھک رہی ہے تیغ بھی ایدھر ہمارے کشت و خوں میں متفق باہم ہیں یہ دونوں کھلے سینے کے داغوں پر ٹھہر رہتے ہیں کچھ آنسو چمن میں مہر ورزی کے گل و شبنم ہیں یہ دونوں کبھو دل رکنے لگتا ہے جگر گاہے تڑپتا ہے غم ہجراں میں چھاتی کے ہماری جم ہیں یہ دونوں خدا جانے کہ دنیا میں ملیں اس سے کہ عقبیٰ میں مکاں تو میر صاحب شہرئہ عالم ہیں یہ دونوں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR