میر تقی میر
جہاں اب خارزاریں ہو گئی ہیں
جہاں اب خارزاریں ہو گئی ہیں
یہیں آگے بہاریں ہو گئی ہیں
جنوں میں خشک ہو رگ ہاے گردن
گریباں کی سی تاریں ہو گئی ہیں
سنا جاتا ہے شہر عشق کے گرد
مزاریں ہی مزاریں ہو گئی ہیں
اسی دریاے خوبی کا ہے یہ شوق
کہ موجیں سب کناریں ہو گئی ہیں
انھیں گلیوں میں جب روتے تھے ہم میر
کئی دریا کی دھاریں ہو گئی ہیں