میر تقی میر میر تقی میر

لیتے ہیں سانس یوں ہم جوں تار کھینچتے ہیں

لیتے ہیں سانس یوں ہم جوں تار کھینچتے ہیں اب دل گرفتگی سے آزار کھینچتے ہیں سینہ سپر کیا تھا جن کے لیے بلا کا وے بات بات میں اب تلوار کھینچتے ہیں مجلس میں تیری ہم کو کب غیر خوش لگے ہے ہم بیچ اپنے اس کے دیوار کھینچتے ہیں بے طاقتی نے ہم کو چاروں طرف سے کھویا تصدیع گھر میں بیٹھے ناچار کھینچتے ہیں منصور کی حقیقت تم نے سنی ہی ہو گی حق جو کہے ہے اس کو یاں دار کھینچتے ہیں شکوہ کروں تو کس سے کیا شیخ کیا برہمن ناز اس بلاے جاں کے سب یار کھینچتے ہیں ناوک سے میر اس کے دل بستگی تھی مجھ کو پیکاں جگر سے میرے دشوار کھینچتے ہیں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR