میر تقی میر میر تقی میر

ملنے لگے ہو دیر دیر دیکھیے کیا ہے کیا نہیں

ملنے لگے ہو دیر دیر دیکھیے کیا ہے کیا نہیں تم تو کرو ہو صاحبی بندے میں کچھ رہا نہیں بوے گل اور رنگ گل دونوں ہیں دلکش اے نسیم لیک بقدر یک نگاہ دیکھیے تو وفا نہیں شکوہ کروں ہوں بخت کا اتنے غضب نہ ہو بتاں مجھ کو خدا نخواستہ تم سے تو کچھ گلہ نہیں نالے کیا نہ کر سنا نوحے مرے پہ عندلیب بات میں بات عیب ہے میں نے تجھے کہا نہیں خواب خوش سحر سے شوخ تجھ کو صبا جگا گئی مجھ پہ عبث ہے بے دماغ میں نے تو کچھ کہا نہیں چشم سفید و اشک سرخ آہ دل حزیں ہے یاں شیشہ نہیں ہے مے نہیں ابر نہیں ہوا نہیں ایک فقط ہے سادگی تس پہ بلاے جاں ہے تو عشوہ کرشمہ کچھ نہیں آن نہیں ادا نہیں آب و ہواے ملک عشق تجربہ کی ہے میں بہت کرکے دواے درد دل کوئی بھی پھر جیا نہیں ہووے زمانہ کچھ سے کچھ چھوٹے ہے دل لگا مرا شوخ کسی ہی آن میں تجھ سے تو میں جدا نہیں ناز بتاں اٹھا چکا دیر کو میر ترک کر کعبے میں جاکے بیٹھ میاں تیرے مگر خدا نہیں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR