میر تقی میر
جب درددل کا کہنا میں دل میں ٹھانتا ہوں
جب درددل کا کہنا میں دل میں ٹھانتا ہوں
کہتا ہے بن سنے ہی میں خوب جانتا ہوں
شاید نکل بھی آوے دل گم جو ہو گیا ہے
اس کی گلی میں بیٹھا میں خاک چھانتا ہوں
اس دردسر کا لٹکا سر سے لگا ہے میرے
سو سرکا ہووے صندل میں میر مانتا ہوں