میر تقی میر میر تقی میر

مرے آگے نہ شاعر نام پاویں

مرے آگے نہ شاعر نام پاویں قیامت کو مگر عرصے میں آویں پری سمجھے تجھے وہم و گماں سے کہاں تک اور ہم اب دل چلاویں ترے عاشق ترے رسوا کہائے ترے ہوکر کہہ اب کس کے کہاویں مزاج اپنا غیور ازبس پڑا ہے ترے غم میں کسے خاطر میں لاویں پھرے ہے شیخ مجلس ہی میں رقصاں ادھر آنکلے تو ہم بھی نچاویں نظر اے ابر اب مت آ مبادا کہیں میری بھی آنکھیں ڈبڈباویں قدم بوسی تلک مختار ہیں غیر زیادہ لگ چلیں تو سر میں کھاویں نہ آیا وہ تو کیا ہم نیم جاں بھی بغیر اس کے ملے دنیا سے جاویں چلی ہے تو تو اے جان الم ناک ٹک اک رہ جا کہ ہم رخصت ہو آویں چلا مقدور سے غم میر آگے زمیں پھٹ جائے یارب ہم سماویں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR