میر تقی میر
پلکوں سے ترے شائق ہم سر جو پٹکتے ہیں
پلکوں سے ترے شائق ہم سر جو پٹکتے ہیں
ہر دم جگروں میں کچھ کانٹے سے کھٹکتے ہیں
میں پھاڑ گریباں کو درویش ہوا آخر
وے ہاتھ سے دامن کو اب تک بھی جھٹکتے ہیں
یاد آوے ہے جب شب کو وہ چہرئہ مہتابی
آنسو مری پلکوں سے تارے سے چھٹکتے ہیں
کی راہبری میری صحراے محبت میں
یاں حضرت خضر آپھی مدت سے بھٹکتے ہیں
جاتے نہ کوئی دیکھا اس تیغ کے منھ اوپر
واں میان سے وہ لے ہے یاں یار سٹکتے ہیں
کیا تم کو اچنبھا ہے سختی کا محبت میں
دشوار ہی ہوتا ہے دل جن کے اٹکتے ہیں
تو طرئہ جاناں سے چاہے ہے ابھی مقصد
برسوں سے پڑے ہم تو اے میر لٹکتے ہیں