میر تقی میر
اب کچھ ہمارے حال پہ تم کو نظر نہیں
اب کچھ ہمارے حال پہ تم کو نظر نہیں
یعنی تمھاری ہم سے وے آنکھیں نہیں رہیں
اس بزم کے چراغ بجھے تھے جو یار میر
ان کے فروغ باغ میں گل ہیں کہیں کہیں