میر تقی میر میر تقی میر

جو حیدری نہیں اسے ایمان ہی نہیں

جو حیدری نہیں اسے ایمان ہی نہیں ہو گر شریف مکہ مسلمان ہی نہیں وہ ترک صید پیشہ مرا قصد کیا کرے دبلے پنے سے تن میں مرے جان ہی نہیں خال و خط ایسے فتنے نگاہیں یہ آفتیں کچھ اک بلا وہ زلف پریشان ہی نہیں ہیں جزو خاک ہم تو غبار ضعیف سے سر کھینچنے کا ہم کنے سامان ہی نہیں دیکھی ہو جس نے صورت دلکش وہ ایک آن پھر صبر اس سے ہو سکے امکان ہی نہیں خورشید و ماہ و گل سبھی اودھر رہے ہیں دیکھ اس چہرے کا اک آئینہ حیران ہی نہیں یکساں ہے تیرے آگے جو دل اور آرسی کیا خوب و زشت کی تجھے پہچان ہی نہیں سجدہ اس آستاں کا نہ جس کے ہوا نصیب وہ اپنے اعتقاد میں انسان ہی نہیں کیا تجھ کو بھی جنوں تھا کہ جامے میں تیرے میر سب کچھ بجا ہے ایک گریبان ہی نہیں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR