میر تقی میر میر تقی میر

گر کچھ ہو درد آئینہ یوں چرخ زشت میں

گر کچھ ہو درد آئینہ یوں چرخ زشت میں ان صورتوں کو صرف کرے خاک و خشت میں رکھتا ہے سوز عشق سے دوزخ میں روز و شب لے جائے گا یہ سوختہ دل کیا بہشت میں آسودہ کیونکے ہوں میں کہ مانند گردباد آوارگی تمام ہے میری سرشت میں کب تک خراب سعی طواف حرم رہوں دل کو اٹھا کے بیٹھ رہوں گا کنشت میں ماتم کے ہوں زمین پہ خرمن تو کیا عجب ہوتا ہے نیل چرخ کی اس سبز کشت میں سرمست ہم ہیں آنکھوں کے دیکھے سے یار کی کب یہ نشہ ہے دختر رز تجھ پلشت میں رندوں کے تیں ہمیشہ ملامت کرے ہے تو آجائیو نہ شیخ کہیں ہشت بھشت میں نامے کو چاک کرکے کرے نامہ بر کو قتل کیا یہ لکھا تھا میر مری سرنوشت میں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR