میر تقی میر میر تقی میر

آیا کمال نقص مرے دل کی تاب میں

آیا کمال نقص مرے دل کی تاب میں جاتا ہے جی چلا ہی مرا اضطراب میں دوزخ کیا ہے سینہ مرا سوز عشق سے اس دل جلے ہوئے کے سبب ہوں عذاب میں مت کر نگاہ خشم یہی موت ہے مری ساقی نہ زہر دے تو مجھے تو شراب میں بیدار شور حشر نے سب کو کیا ولے ہیں خون خفتہ اس کے شہیدوں کے خواب میں دل لے کے رو بھی ٹک نہیں دیتے کہیں گے کیا خوبان بد معاملہ یوم الحساب میں جاکر در طبیب پہ بھی میں گرا ولے جز آہ ان نے کچھ نہ کیا میرے باب میں عیش و خوشی ہے شیب میں ہو گوپہ وہ کہاں لذت جو ہے جوانی کے رنج و عتاب میں دیں عمر خضر موسم پیری میں تو نہ لے مرنا ہی اس سے خوب ہے عہد شباب میں آنکلے تھے جو حضرت میر اس طرف کہیں میں نے کیا سوال یہ ان کی جناب میں حضرت سنو تو میں بھی تعلق کروں کہیں فرمانے لاگے روکے یہ اس کے جواب میں تو جان لیک تجھ سے بھی آئے جو کل تھے یاں ہیں آج صرف خاک جہان خراب میں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR