میر تقی میر
شرط یہ ابر میں ہم میں ہے کہ روویں گے کل
شرط یہ ابر میں ہم میں ہے کہ روویں گے کل
صبح گہ اٹھتے ہی عالم کو ڈبوویں گے کل
آج آوارہ ہو اے بال اسیران قفس
یہ گل و باغ و خیابان نہ ہوویں گے کل
وعدئہ وصل رہا ہے شب آئندہ پہ میر
بخت خوابیدہ جو ٹک جاگتے سوویں گے کل