میر تقی میر میر تقی میر

فصل خزاں میں سیر جو کی ہم نے جاے گل

فصل خزاں میں سیر جو کی ہم نے جاے گل چھانی چمن کی خاک نہ تھا نقش پاے گل اللہ رے عندلیب کی آواز دل خراش جی ہی نکل گیا جو کہا ان نے ہائے گل مقدور تک شراب سے رکھ انکھڑیوں میں رنگ یہ چشمک پیالہ ہے ساقی ہواے گل یہ دیکھ سینہ داغ سے رشک چمن ہے یاں بلبل ستم ہوا نہ جو تونے بھی کھائے گل بلبل ہزار جی سے خریدار اس کی ہے اے گل فروش کریو سمجھ کر بہاے گل نکلا ہے ایسی خاک سے کس سادہ رو کی یہ قابل درود بھیجنے کے ہے صفاے گل بارے سرشک سرخ کے داغوں سے رات کو بستر پر اپنے سوتے تھے ہم بھی بچھائے گل آ عندلیب صلح کریں جنگ ہوچکی لے اے زباں دراز تو سب کچھ سواے گل گل چیں سمجھ کے چنیو کہ گلشن میں میر کے لخت جگر پڑے ہیں نہیں برگ ہاے گل

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR