میر تقی میر میر تقی میر

کہیں پہنچو بھی مجھ بے پا و سر تک

کہیں پہنچو بھی مجھ بے پا و سر تک کہ پہنچا شمع ساں داغ اب جگر تک کچھ اپنی آنکھ میں یاں کا نہ آیا خزف سے لے کے دیکھا درتر تک جسے شب آگ سا دیکھا سلگتے اسے پھر خاک ہی پایا سحر تک ترا منھ چاند سا دیکھا ہے شاید کہ انجم رہتے ہیں ہر شب ادھر تک جب آیا آہ تب اپنے ہی سر پر گیا یہ ہاتھ کب اس کی کمر تک ہم آوازوں کو سیر اب کی مبارک پر و بال اپنے بھی ایسے تھے پر تک کھنچی کیا کیا خرابی زیر دیوار ولے آیا نہ وہ ٹک گھر سے در تک گلی تک تیری لایا تھا ہمیں شوق کہاں طاقت کہ اب پھر جائیں گھر تک یہی دردجدائی ہے جو اس شب تو آتا ہے جگر مژگان تر تک دکھائی دیں گے ہم میت کے رنگوں اگر رہ جائیں گے جیتے سحر تک کہاں پھر شور شیون جب گیا میر یہ ہنگامہ ہے اس ہی نوحہ گر تک

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR