میر تقی میر
بالیں پہ میری آوے گا تو گھر سے جب تلک
بالیں پہ میری آوے گا تو گھر سے جب تلک
کر جائوں گا سفر ہی میں دنیا سے تب تلک
اتنا دن اور دل سے طپش کرلے کاوشیں
یہ مجہلہ تمام ہی ہے آج شب تلک
نقاش کیونکے کھینچ چکا تو شبیہ یار
کھینچوں ہوں ایک ناز ہی اس کا میں اب تلک
شب کوتہ اور قصہ مری جان کا دراز
القصہ اب کہا کروں تجھ سے میں کب تلک
باقی یہ داستان ہے اور کل کی رات ہے
گر جان میری میر نہ آپہنچے لب تلک