میر تقی میر
میر گم کردہ چمن زمزمہ پرداز ہے ایک
میر گم کردہ چمن زمزمہ پرداز ہے ایک
جس کی لے دام سے تاگوش گل آواز ہے ایک
کچھ ہو اے مرغ قفس لطف نہ جاوے اس سے
نوحہ یا نالہ ہر اک بات کا انداز ہے ایک
ناتوانی سے نہیں بال فشانی کا دماغ
ورنہ تا باغ قفس سے مری پرواز ہے ایک
گوش کو ہوش کے ٹک کھول کے سن شور جہاں
سب کی آواز کے پردے میں سخن ساز ہے ایک
چاہے جس شکل سے تمثال صفت اس میں درآ
عالم آئینے کے مانند در باز ہے ایک