میر تقی میر میر تقی میر

اب وہ نہیں کہ شورش رہتی تھی آسماں تک

اب وہ نہیں کہ شورش رہتی تھی آسماں تک آشوب نالہ اب تو پہنچا ہے لامکاں تک بہ بھی گیا بدن کا سب ہوکے گوشت پانی اب کارد اے عزیزاں پہنچی ہے استخواں تک تصویر کی سی شمعیں خاموش جلتے ہیں ہم سوز دروں ہمارا آتا نہیں زباں تک روتے پھرے ہیں لوہو یک عمر اس گلی میں باغ و بہار ہی ہے جاوے نظر جہاں تک آنکھیں جو روتے روتے جاتی رہیں بجا ہے انصاف کر کہ کوئی دیکھے ستم کہاں تک بے لطف تیرے کیونکر تجھ تک پہنچ سکیں ہم ہیں سنگ راہ اپنی کتنے یہاں سے واں تک ہم بے نصیب سر کو پتھر سے کیوں نہ پھوڑیں پہنچا کبھو نہ جبہہ اس سنگ آستاں تک مانند طیر نوپر اٹھے جہاں گئے ہم دشوار ہے ہمارا آنا پھر آشیاں تک تن کام میں ہمارے دیتا نہیں وہی کچھ حاضر ہیں میر ہم تو اپنی طرف سے جاں تک

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR