میر تقی میر
غالب ہے تیرے عہد میں بیداد کی طرف
غالب ہے تیرے عہد میں بیداد کی طرف
ہر خوں گرفتہ جائے ہے جلاد کی طرف
کن نے لیا ہے تم سے مچلکا کہ داد دو
ٹک کان ہی رکھا کرو فریاد کی طرف
ہر تار زلف قیمت فردوس ہے ترا
کرتا ہے کون طرئہ شمشاد کی طرف
ہم نے تو پرفشانی نہ جانی کہ ایک بار
پرواز کی چمن سے سو صیاد کی طرف
حیران کار عشق ہے شیریں کا نقش میر
کچھ یوں ہی دیکھتا نہیں فرہاد کی طرف