میر تقی میر میر تقی میر

ہر جزر و مد سے دست و بغل اٹھتے ہیں خروش

ہر جزر و مد سے دست و بغل اٹھتے ہیں خروش کس کا ہے راز بحر میں یارب کہ یہ ہیں جوش ابروے کج ہے موج کوئی چشم ہے حباب موتی کسی کی بات ہے سیپی کسی کا گوش ان مغبچوں کے کوچے ہی سے میں کیا سلام کیا مجھ کو طوف کعبہ سے میں رند درد نوش حیرت سے ہووے پرتو مہ نور آئینہ تو چاندنی میں نکلے اگر ہو سفید پوش کل ہم نے سیر باغ میں دل ہاتھ سے دیا اک سادہ گل فروش کا آکر سبد بدوش جاتا رہا نگاہ سے جوں موسم بہار آج اس بغیر داغ جگر ہیں سیاہ پوش شب اس دل گرفتہ کو وا کر بزور مے بیٹھے تھے شیرہ خانے میں ہم کتنے ہرزہ کوش آئی صدا کہ یاد کرو دور رفتہ کو عبرت بھی ہے ضرور ٹک اے جمع تیز ہوش جمشید جس نے وضع کیا جام کیا ہوا وے صحبیتں کہاں گئیں کیدھر وے ناو نوش جزلالہ اس کے جام سے پاتے نہیں نشاں ہے کوکنار اس کی جگہ اب سبوبدوش جھومے ہے بید جاے جوانان مے گسار بالاے خم ہے خشت سر پیر مے فروش میر اس غزل کو خوب کہا تھا ضمیر نے پر اے زباں دراز بہت ہوچکی خموش

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR