میر تقی میر میر تقی میر

کیونکے نکلا جائے بحر غم سے مجھ بے دل کے پاس

کیونکے نکلا جائے بحر غم سے مجھ بے دل کے پاس آ کے ڈوبی جاتی ہے کشتی مری ساحل کے پاس ہے پریشاں دشت میں کس کا غبار ناتواں گرد کچھ گستاخ آتی ہے چلی محمل کے پاس گرم ہو گا حشر کو ہنگامۂ دعویٰ بہت کاشکے مجھ کو نہ لے جاویں مرے قاتل کے پاس دور اس سے جوں ہوا دل پر بلا ہے مضطرب اس طرح تڑپا نہیں جاتا کسو بسمل کے پاس بوے خوں آتی ہے باد صبح گاہی سے مجھے نکلی ہے بے درد شاید ہو کسو گھائل کے پاس آہ نالے مت کیا کر اس قدر بیتاب ہو اے ستم کش میر ظالم ہے جگر بھی دل کے پاس

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR