میر تقی میر میر تقی میر

آشوب دیکھ چشم تری سر رہے ہیں جوڑ

آشوب دیکھ چشم تری سر رہے ہیں جوڑ پلکوں کی صف سے بھیڑیں گئیں منھ کو موڑ موڑ لاکھوں جتن کیے نہ ہوا ضبط گریہ لیک سنتے ہی نام آنکھ سے آنسو گرے کڑوڑ زخم دروں سے میرے نہ ٹک بے خبر رہو اب ضبط گریہ سے ہے ادھر ہی کو سب نچوڑ گرمی سے بر شگال کی پروا ہے کیا ہمیں برسوں رہی ہے جان کے رکنے کی یاں مروڑ بلبل کی اور چشم مروت سے دیکھ ٹک بے درد یوں چمن میں کسو پھول کو نہ توڑ کچھ کوہکن ہی سے نہیں تازہ ہوا یہ کام بہتیرے عاشقی میں موئے سر کو پھوڑ پھوڑ بے طاقتی سے میر لگے چھوٹنے پران ظالم خیال دیکھنے کا اس کے اب تو چھوڑ

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR