میر تقی میر میر تقی میر

جھوٹے بھی پوچھتے نہیں ٹک حال آن کر

جھوٹے بھی پوچھتے نہیں ٹک حال آن کر انجان اتنے کیوں ہوئے جاتے ہو جان کر وے لوگ تم نے ایک ہی شوخی میں کھو دیے پیدا کیے تھے چرخ نے جو خاک چھان کر جھمکے دکھاکے باعث ہنگامہ ہی رہے پر گھر سے در پہ آئے نہ تم بات مان کر کہتے نہ تھے کہ جان سے جاتے رہیں گے ہم اچھا نہیں ہے آ نہ ہمیں امتحان کر کم گو جو ہم ہوئے تو ستم کچھ نہ ہو گیا اچھی نہیں یہ بات مت اتنی زبان کر ہم وے ہیں جن کے خوں سے تری راہ سب ہے گل مت کر خراب ہم کو تو اوروں میں سان کر تا کشتۂ وفا مجھے جانے تمام خلق تربت پہ میری خون سے میرے نشان کر ناز و عتاب و خشم کہاں تک اٹھایئے یارب کبھو تو ہم پہ اسے مہربان کر افسانے ما و من کے سنیں میر کب تلک چل اب کہ سوویں منھ پہ دوپٹے کو تان کر

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR