میر تقی میر
پشت پا ماری بسکہ دنیا پر
پشت پا ماری بسکہ دنیا پر
زخم پڑ پڑ گیا مرے پا پر
ڈوبے اچھلے ہے آفتاب ہنوز
کہیں دیکھا تھا تجھ کو دریا پر
گرو مے ہوں آئو شیخ شہر
ابر جھوما ہی جا ہے صحرا پر
دل پر خوں تو تھا گلابی شراب
جی ہی اپنا چلا نہ صہبا پر
یاں جہاں میں کہ شہر کوراں ہے
سات پردے ہیں چشم بینا پر
فرصت عیش اپنی یوں گذری
کہ مصیبت پڑی تمنا پر
طارم تاک سے لہو ٹپکا
سنگ باراں ہوا ہے مینا پر
میر کیا بات اس کے ہونٹوں کی
جینا دوبھر ہوا مسیحا پر