میر تقی میر میر تقی میر

رہنے کا پاس نہیں ایک بھی تار آخرکار

رہنے کا پاس نہیں ایک بھی تار آخرکار ہاتھ سے جائے گا سررشتۂ کار آخرکار لوح تربت پہ مری پہلے یہ لکھیو کہ اسے یار دشمن ہو گیا جان سے مار آخرکار مشت خاک اپنی جو پامال ہے یاں اس پہ نہ جا سر کو کھینچے گا فلک تک یہ غبار آخرکار سیر کر کثرت عالم کی مری جان کہ پھر تن تنہا ہے تو اور کنج مزار آخرکار چشم وا دیکھ کے اس باغ میں کیجو نرگس آنکھوں سے جاتی رہے گی یہ بہار آخرکار ابتدا ہی میں محبت کی ہوئے ہم تو تمام ہوتا ہو گا یہی کچھ عشق میں یار آخرکار اول کار محبت تو بہت سہل ہے میر جی سے جاتا ہے ولے صبر و قرار آخرکار

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR