میر تقی میر میر تقی میر

غیروں سے مل چلے تم مست شراب ہوکر

غیروں سے مل چلے تم مست شراب ہوکر غیرت سے رہ گئے ہم یک سو کباب ہوکر اس روے آتشیں سے برقع سرک گیا تھا گل بہ گیا چمن میں خجلت سے آب ہوکر کل رات مند گئی تھیں بہتوں کی آنکھیں غش سے دیکھا کیا نہ کر تو سرمست خواب ہوکر پردہ رہے گا کیونکر خورشید خاوری کا نکلے ہے صبح وہ بھی اب بے نقاب ہوکر یک قطرہ آب میں نے اس دور میں پیا ہے نکلا ہے چشم تر سے وہ خون ناب ہوکر آ بیٹھتا تھا صوفی ہر صبح میکدے میں شکر خدا کہ نکلا واں سے خراب ہوکر شرم و حیا کہاں تک ہیں میر کوئی دن کے اب تو ملا کرو تم ٹک بے حجاب ہوکر

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR