میر تقی میر میر تقی میر

یہ عشق بے اجل کش ہے بس اے دل اب توکل کر

یہ عشق بے اجل کش ہے بس اے دل اب توکل کر اگرچہ جان جاتی ہے چلی لیکن تغافل کر سفر ہستی کا مت کر سرسری جوں باد اے رہرو یہ سب خاک آدمی تھے ہر قدم پر ٹک تامل کر سن اے بے درد گلچیں غارت گلشن مبارک ہے پہ ٹک گوش مروت جانب فریاد بلبل کر نہ وعدہ تیرے آنے کا نہ کچھ امید طالع سے دل بیتاب کو کس منھ سے کہیے ٹک تحمل کر یہ کیا جانوں کہ کیوں رونے لگا رونے سے رہ کر میں مگر یہ جانتا ہوں مینھ گھر آتا ہے پھر کھل کر مرے پاس اس کی خاک پا کو بیماری میں رکھا تھا نہ آیا سر مرا بالیں پہ اودھر جو گیا ڈھل کر تجلی جلوہ ہیں کچھ بام و در غم خانے کے میرے وہ رشک ماہ آیا ہم نشیں بس اب دیا گل کر تری خاموشی سے قمری ہوا شور جنوں رسوا ہلاٹک طوق گردن کو بھی ظالم باغ میں غل کر گداز عاشقی کا میر کے شب ذکر آیا تھا جو دیکھا شمع مجلس کو تو پانی ہو گئی گھل کر

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR