میر تقی میر میر تقی میر

غیروں سے وے اشارے ہم سے چھپا چھپاکر

غیروں سے وے اشارے ہم سے چھپا چھپاکر پھر دیکھنا ادھر کو آنکھیں ملا ملاکر ہر گام سد رہ تھی بتخانے کی محبت کعبے تلک تو پہنچے لیکن خدا خدا کر نخچیرگہ میں تجھ سے جو نیم کشتہ چھوٹا حسرت نے اس کو آخر مارا لٹا لٹاکر اک لطف کی نگہ بھی ہم نے نہ چاہی اس سے رکھا ہمیں تو ان نے آنکھیں دکھا دکھاکر ناصح مرے جنوں سے آگہ نہ تھا کہ ناحق گودڑ کیا گریباں سارا سلا سلاکر اک رنگ پاں ہی اس کا دل خوں کن جہاں ہے پھبتا ہے اس کو کرنا باتیں چبا چباکر جوں شمع صبح گاہی یک بار بجھ گئے ہم اس شعلہ خو نے ہم کو مارا جلا جلاکر اس حرف ناشنو سے صحبت بگڑ ہی جا ہے ہر چند لاتے ہیں ہم باتیں بنا بناکر میں منع میر تجھ کو کرتا نہ تھا ہمیشہ کھوئی نہ جان تونے دل کو لگا لگاکر

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR