میر تقی میر میر تقی میر

میرے سنگ مزار پر فرہاد

میرے سنگ مزار پر فرہاد رکھ کے تیشہ کہے ہے یا استاد ہم سے بن مرگ کیا جدا ہو ملال جان کے ساتھ ہے دل ناشاد موند آنکھیں سفر عدم کا کر بس ہے دیکھا نہ عالم ایجاد فکر تعمیر میں نہ رہ منعم زندگانی کی کچھ بھی ہے بنیاد خاک بھی سر پہ ڈالنے کو نہیں کس خرابے میں ہم ہوئے آباد سنتے ہو ٹک سنو کہ پھر مجھ بعد نہ سنوگے یہ نالہ و فریاد لگتی ہے کچھ سموم سی تو نسیم خاک کس دل جلے کی دی برباد بھولا جا ہے غم بتاں میں جی غرض آتا ہے پھر خدا ہی یاد تیرے قید قفس کا کیا شکوہ نالے اپنے سے اپنے سے فریاد ہر طرف ہیں اسیر ہم آواز باغ ہے گھر ترا تو اے صیاد ہم کو مرنا یہ ہے کہ کب ہوں کہیں اپنی قید حیات سے آزاد ایسا وہ شوخ ہے کہ اٹھتے صبح جانا سو جاے اس کی ہے معتاد نہیں صورت پذیر نقش اس کا یوں ہی تصدیع کھینچے ہے بہزاد خوب ہے خاک سے بزرگوں کی چاہنا تو مرے تئیں امداد پر مروت کہاں کی ہے اے میر تو ہی مجھ دل جلے کو کر ارشاد نامرادی ہو جس پہ پروانہ وہ جلاتا پھرے چراغ مراد

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR