میر تقی میر میر تقی میر

خاطر کرے ہے جمع وہ ہر بار ایک طرح

خاطر کرے ہے جمع وہ ہر بار ایک طرح کرتا ہے چرخ مجھ سے نئے یار ایک طرح میں اور قیس و کوہکن اب جو زباں پہ ہیں مارے گئے ہیں سب یہ گنہگار ایک طرح منظور اس کو پردے میں ہیں بے حجابیاں کس سے ہوا دوچار وہ عیار ایک طرح سب طرحیں اس کی اپنی نظر میں تھیں کیا کہیں پر ہم بھی ہو گئے ہیں گرفتار ایک طرح گھر اس کے جاکے آتے ہیں پامال ہوکے ہم کریے مکاں ہی اب سر بازار ایک طرح گہ گل ہے گاہ رنگ گہے باغ کی ہے بو آتا نہیں نظر وہ طرحدار ایک طرح نیرنگ حسن دوست سے کر آنکھیں آشنا ممکن نہیں وگرنہ ہو دیدار ایک طرح سو طرح طرح دیکھ طبیبوں نے یہ کہا صحت پذیر ہوئے یہ بیمار ایک طرح سو بھی ہزار طرح سے ٹھہراوتے ہیں ہم تسکین کے لیے تری ناچار ایک طرح بن جی دیے ہو کوئی طرح فائدہ نہیں گر ہے تو یہ ہے اے جگر افگار ایک طرح ہر طرح تو ذلیل ہی رکھتا ہے میر کو ہوتا ہے عاشقی میں کوئی خوار ایک طرح

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR